❮
❯
حدیث نمبر: 1764
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ - وَلَقِيَهُ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ذَوْدًا عَلَى صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، وَلَا تَأْثَمْ رَبَّكَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ".
ترجمہ

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے بتوں میں سے ایک بت کے مقام پر چند اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نذر پوری کرو اور اپنے رب کے حضور گناہ گار نہ بنو“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (اس حوالے سے شرعی قاعدہ بیان کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی، قطع رحمی اور جس چیز کا انسان خود مالک نہ ہو، اس میں نذر کی کوئی وفاداری (یعنی اسے پورا کرنا شرعاً جائز) نہیں ہے“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1764
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6961، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4850»