المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الأيمان والنذور باب: قسموں اور نذروں (منتوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1764
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ - وَلَقِيَهُ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ذَوْدًا عَلَى صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، وَلَا تَأْثَمْ رَبَّكَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ".ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت کے بتوں میں سے ایک بت کے مقام پر چند اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نذر پوری کرو اور اپنے رب کے حضور گناہ گار نہ بنو“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (اس حوالے سے شرعی قاعدہ بیان کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی، قطع رحمی اور جس چیز کا انسان خود مالک نہ ہو، اس میں نذر کی کوئی وفاداری (یعنی اسے پورا کرنا شرعاً جائز) نہیں ہے“۔