❮
❯
حدیث نمبر: 1761
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا الْمِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ ، وَوَلَدِهِ ، وَمَالِهِ - كُتِبَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ . وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ عِرْضَهُ كُتِبَ لَهُ صَدَقَةٌ " .
قَالَ : " وَكُلُّ نَفَقَةِ مُؤْمِنٍ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ فَعَلَى اللهِ تَعَالَى خَلَفُهَا ضَامِنًا إِلَّا نَفَقَةً فِي بُنْيَانٍ " .
فَقُلْنَا لِجَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ ، مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ : " مَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ عِرْضَهُ " ؟ قَالَ : يُعْطِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ . قَالَ : كَأَنَّهُ يَقُولُ : الَّذِي يُتَّقَى لِسَانُهُ.
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آدمی جو کچھ اپنے اہل و عیال، اپنی اولاد اور اپنے مال پر خرچ کرتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ لکھ دیا جاتا ہے، اور جس مال کے ذریعے انسان اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہی شمار ہوتا ہے۔“
آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”ایک مومن کا وہ ہر خرچ جو اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں نہ ہو، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کا نعم البدل عطا فرمانے کا ضامن ہے، سوائے اس خرچ کے جو تعمیرات میں کیا جائے۔“
راوی کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے ابو عبداللہ! حضور ﷺ کے اس ارشاد ”جس مال کے ذریعے انسان اپنی عزت بچائے“ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے وضاحت فرمائی کہ اس سے مراد وہ مال ہے جو کسی شاعر یا کسی زبان دراز شخص کو (اس کی بدگوئی سے بچنے کے لیے) دیا جائے؛ گویا آپ کا مقصد یہ تھا کہ ایسے شخص کو مال دے کر اپنی آبرو کو اس کی زبان کے شر سے محفوظ کر لیا جائے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1761
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه شرح السنة برقم: 1646، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2100/1، 3388، 5165/1»