❮
❯
حدیث نمبر: 1760
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، بَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَاسْتَأْذَنَهُ شَابٌّ أَنْ يَخْرُجَ فِيهَا فَقَالَ : " هَلْ تَرَكْتَ فِي أَهْلِكَ مِنْ كَامِلٍ ؟ " قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ ، وَهُمْ صِبْيَانٌ صِغَارٌ . قَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهِمْ ، فَإِنَّ فِيهِمْ مُجَاهَدًا حَسَنًا ".
ترجمہ

سیدنا مسلم بن یسار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو ایک نوجوان نے اس میں شامل ہونے کے لیے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی، جس پر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اپنے اہل و عیال میں پیچھے کوئی ایسا سمجھدار اور ذمہ دار فرد چھوڑا ہے جو ان کی خبر گیری کر سکے؟“ اس نے عرض کیا: میرے علم میں ایسا کوئی نہیں ہے، بلکہ وہ سب چھوٹے بچے ہیں، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے انھی گھر والوں کے پاس واپس لوٹ جاؤ، کیونکہ ان کی خدمت و نگہداشت میں مصروف رہنا بھی ایک بہترین جہاد ہے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1760
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 9287»