المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرضاع باب: رضاعت یعنی دودھ پلانے کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1751
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغُرَّةُ " ، يَعْنِي الْعَبْدَ أَوِ الْأَمَةَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جو مجھ سے رضاعت (دودھ پلانے) کے حق کا مطالبہ یا اس کی ذمہ داری کا بوجھ ختم کر سکتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”غرہ (یعنی ایک غلام یا لونڈی دینا)“
شارحینِ حدیث کے مطابق یہاں 'غرہ' سے مراد ایک اعلیٰ درجے کا اور ہر عیب سے پاک غلام یا لونڈی ہے، جسے دودھ پلانے والی خاتون کو اس کی مشقت کے بدلے میں بطورِ معاوضہ یا ہدیہ پیش کرنا اس کے احسان کے اعتراف اور اخلاقی ذمہ داری سے سبکدوشی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔