المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرضاع باب: رضاعت یعنی دودھ پلانے کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1752
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَزَوَّجْتَ بِنْتَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعِ ، وَإِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ".ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عرض کیا گیا: کاش آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے عقدِ نکاح فرما لیتے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور بیشک رضاعت (دودھ کا رشتہ) بھی ان تمام رشتوں کو حرام کر دیتا ہے جنہیں نسبی تعلق حرام قرار دیتا ہے۔“