المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الظهار باب: ظہار کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَرَآهَا فِي الْقَمَرِ فَأَعْجَبَتْهُ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى : مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ؟ " فَقَالَ : رَأَيْتُهَا فَأَعْجَبَتْنِي ! فَقَالَ : " أَمْسِكْ حَتَّى تُكَفِّرَ ".سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا (یعنی اسے اپنے اوپر حرام قرار دے دیا)، پھر ایک رات چاند کی روشنی میں اسے دیکھا تو وہ اسے بہت بھلی معلوم ہوئی، چنانچہ اس نے (شرعی کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی) اس سے ہمبستری کر لی۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو صورتِ حال سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ (اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو مس کریں) [سورة المجادلة: 3]؟“ اس شخص نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میں نے اسے دیکھا تو وہ مجھے بہت پسند آگئی (جس کی وجہ سے میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب تم اس وقت تک (تعلق سے) رکے رہو جب تک کہ تم باقاعدہ کفارہ ادا نہ کر دو۔“
اس حدیث مبارکہ سے یہ فقہی قاعدہ معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کرنے والے شخص کے لیے کفارہ کی ادائیگی سے قبل اپنی بیوی سے جنسی ملاپ کرنا شرعاً ممنوع ہے، اور اگر وہ کفارہ سے پہلے جماع کر لے تو اسے توبہ کرنی چاہیے اور کفارہ ادا کرنے تک دوبارہ ایسی جسارت سے باز رہنا لازم ہے۔