❮
❯
حدیث نمبر: 1749
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا وَهْبٌ ، ثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ أَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ قَالَ : نِصْفِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ ، شَكَّ أَيُّوبُ . فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا ; فَإِنَّهُ يُجْزِئُ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ ".
ترجمہ

ابو یزید مدینی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو بیاضہ کی ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک وسق (یا راوی ایوب کو شک ہے کہ شاید آدھا وسق کہا) جو بھیجے، تو رسول اللہ ﷺ نے وہ غلہ اس شخص کو عطا فرما دیا جس نے اپنی اہلیہ سے ظہار کر لیا تھا اور اسے حکم دیا کہ: ”تم اسے (بطورِ کفارہ) صدقہ کر دو، کیونکہ گندم کے ہر آدھے صاع کے بدلے ایک صاع جو کفایت کر جاتا ہے۔“
ائمہ و شارحین کے نزدیک اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ و کفارات میں مختلف اجناس کی قیمت اور غذائی افادیت کے اعتبار سے ان کی مقدار میں فرق کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ یہاں گندم کی نسبت جو کی مقدار دوگنی مقرر کی گئی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1749
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»