المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الظهار باب: ظہار کے احکام و مسائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الْأَشَجُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ ، أَوْ قَالَ : ظَاهَرَ مِنْهَا رَمَضَانَ ، فَأَتَى أَهْلَهُ لَيْلًا ... ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ مُرْسَلًا .جلیل القدر تابعی سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے اس شرط پر ظہار کیا (یعنی اسے اپنی ماں کے مشابہ قرار دے کر خود پر حرام کر لیا) کہ جب تک رمضان کا مہینہ ختم نہ ہو جائے، یا راوی نے یہ الفاظ کہے کہ اس نے پورے رمضان کے لیے اس سے ظہار کیا، پھر وہ رات کے وقت (جماع کی غرض سے) اپنی اہلیہ کے پاس آ گیا... اس کے بعد راوی نے مکمل طویل حدیث مرسل طریق سے بیان کی ہے۔
یہ روایت ظہارِ موقت (ایک معینہ وقت کے لیے ظہار) کے فقہی احکام سے متعلق ہے اور علمی اعتبار سے یہ ایک مرسل روایت ہے جس میں جلیل القدر تابعی کسی صحابی کا نام لیے بغیر براہِ راست واقعہ یا حکم بیان کرتے ہیں۔