المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الظهار باب: ظہار کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1747
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ : إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ ؟ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : إِنِّي قُلْتُ : إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ فَهِيَ ظِهَارٌ ، فَقَالَ : " إِنْ تَزَوَّجْتَهَا ، وَأَرَدْتَ أَنْ تُمْسِكَهَا - تُكَفِّرْ " .ترجمہ
سعید بن عمرو بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے (نکاح سے قبل) یہ کہا ہو کہ ”اگر میں نے فلاں عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے“؟ انہوں نے (سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے) بتایا کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ میں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ”اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو وہ مجھ پر ظہار (ماں کی پشت کی مانند) ہوگی“، تو اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم اس سے نکاح کر لو اور پھر اسے اپنی زوجیت میں برقرار رکھنا چاہو، تو تمہیں (اس قول کا) کفارہ ادا کرنا ہوگا۔“