المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الإيلاء باب: ایلاء (یعنی شوہر کے اپنی بیوی سے قربت نہ کرنے کی قسم کھانے) کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1746
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ ، ثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ إِيلَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ ، وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . فَوَقَّتَ اللهُ تَعَالَى لَهُمْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ، فَمَنْ كَانَ إِيلَاؤُهُ أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ " .
وَقَالَ عَطَاءٌ : وَإِنْ آلَى مِنْهَا ، وَهِيَ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا قَبْلَ أَنْ يُؤْتَى بِهَا - فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں ایلاء (بیوی سے ازدواجی تعلق منقطع کرنے کی قسم کھانا) کی مدت ایک سال، دو سال یا اس سے بھی زائد ہوا کرتی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے چار ماہ کی حد مقرر فرما دی، لہٰذا جس شخص کے ایلاء کی مدت چار ماہ سے کم ہو وہ (شرعی حکم والا) ایلاء نہیں ہے۔“
امام عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر شوہر اپنی بیوی سے اس وقت ایلاء کرے جب وہ ابھی اپنے میکے میں ہو اور رخصت ہو کر شوہر کے گھر نہ آئی ہو، تو اسے ایلاء قرار نہیں دیا جائے گا۔