المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تخيير مِنْ أسلم عَلَى أكثر مِنْ أربع نسوة فيهن باب: چار سے زیادہ بیویوں کے ساتھ اسلام قبول کرنے والے کو ان میں سے انتخاب کا اختیار دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1745
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ هُوَ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " أَسْلَمَ غَيْلَانُ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ، وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ . وَأَسْلَمَ صَفْوَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعِنْدَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ، وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تو ان کے نکاح میں دس بیویاں تھیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”تم ان میں سے چار کا انتخاب کر لو اور بقیہ تمام کو خود سے جدا کر دو“۔ اسی طرح جب سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو ان کے پاس آٹھ بیویاں تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں بھی یہی حکم صادر فرمایا کہ ”ان میں سے چار کو اپنے نکاح میں روک لو اور بقیہ تمام کو علیحدہ کر دو“۔