المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الأختين بملك الْيَمِينِ والمرأة وبنتها بملك الْيَمِينِ باب: ملکِ یمین میں دو بہنوں، نیز ماں اور بیٹی کو جمع کرنے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْأُخْتَيْنِ الْأَمَتَيْنِ ، مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ، فَقَالَ : " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ ، وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَهُ " . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ أَلِي شَيْئًا مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهَذَا جَعَلْتُهُ نَكَالًا .
قَالَ الزُّهْرِيُّ : أُرَاهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایسی دو لونڈیوں کے متعلق سوال کیا گیا جو آپس میں سگی بہنیں ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”انہیں ایک آیت ﴿أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورۃ النساء: 3] نے حلال کیا ہے جبکہ دوسری آیت ﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾ [سورۃ النساء: 23] نے (بیک وقت جمع کرنے کو) حرام ٹھہرایا ہے، اور میں اسے خود کرنا پسند نہیں کرتا۔“ جب یہ بات نبی کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میرے پاس مسلمانوں کے امور کا کوئی اختیار ہوتا اور میرے پاس ایسا شخص لایا جاتا (جس نے دو بہنوں کو جمع کیا ہو) تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دیتا۔“
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ (سخت موقف رکھنے والے) صحابی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔