المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الأختين بملك الْيَمِينِ والمرأة وبنتها بملك الْيَمِينِ باب: ملکِ یمین میں دو بہنوں، نیز ماں اور بیٹی کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1736
وَبِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سُئِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ، فَقَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا ، وَأَنْهَى عَنْهُمَا جَمِيعًا ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایسی دو لونڈیوں کے متعلق دریافت کیا گیا جو آپس میں ماں اور بیٹی ہوں (کہ کیا ان دونوں سے بیک وقت جنسی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے؟)، تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”میں ان دونوں کو ایک ساتھ (جماع کے لیے) حلال قرار دینا پسند نہیں کرتا اور میں ان دونوں سے (بیک وقت وطی کرنے سے) سختی سے منع کرتا ہوں۔“