❮
❯
حدیث نمبر: 1733
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ تَحْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَقَدْ ضَرَبَهَا الطَّلْقُ ، فَكَتَمَتْهُ ، فَقَالَتْ لَهُ : طَيِّبْ قَلْبِي بِتَطْلِيقَةٍ ، فَطَلَّقَهَا ، وَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ .
فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ، اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا " . فَقَالَ : مَا لَهَا خَدَعَتْنِي خَدَعَهَا اللهُ تَعَالَى . !
ترجمہ

میمون بن مہران اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حبالۂ عقد میں تھیں، ایک مرتبہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نماز کے لیے نکلنے لگے جبکہ سیدہ ام کلثوم کو دردِ زہ (وضعِ حمل کی تکلیف) شروع ہو چکی تھی مگر انہوں نے اس بات کو مخفی رکھا اور ان سے التجا کی کہ ایک طلاق دے کر میرا جی خوش کر دیں، چنانچہ انہوں نے انہیں طلاق دے دی، لیکن جب وہ نماز سے واپس لوٹے تو وہ بچہ جن چکی تھیں اور ان کی عدت فوراً ختم ہو چکی تھی۔
اس پر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور صورتحال عرض کی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مقررہ عدت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے، اب تم چاہو تو اسے دوبارہ اپنے نکاح کا پیغام دے دو۔“ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: اسے کیا ہوا، اس نے میرے ساتھ بڑی ہوشیاری سے کام لیا ہے، اللہ اس کی اس تدبیر کو قبول فرمائے!

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1733
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 2026»