المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْغُسْلِ باب: غسل کے طریقۂ کار اور اس کی کیفیت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ : سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ غُسْلِ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَتْ : " يُنَقِّي الشَّعَرَ ، وَيَرْوِي الْبَشَرَ " . وَسَأَلْتُهَا عَنْ غُسْلِ الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ : " تُنَظِّفُ فَرْوَتَهَا ، وَلَا تَحُلُّ رَأْسَهَا " .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ناعم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرد کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ اپنے بالوں کو اچھی طرح صاف کرے اور اپنی کھال (جلد) کو پانی سے خوب سیراب کرے۔“ اور میں نے ان سے عورت کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنے سر کی جلد کو تو اچھی طرح صاف کرے لیکن اسے اپنے (گوندھے ہوئے) بال کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
یہ اثر غسلِ جنابت کی کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ غسل میں بالوں کی جڑوں اور پوری جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے، البتہ عورت اگر بال گوندھ کر چٹیا بنائی ہوئی ہو تو اسے محض سر کی کھال تک پانی پہنچانا کافی ہے، بال کھولنا لازم نہیں۔