❮
❯
حدیث نمبر: 172
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ : سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ غُسْلِ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَتْ : " يُنَقِّي الشَّعَرَ ، وَيَرْوِي الْبَشَرَ " . وَسَأَلْتُهَا عَنْ غُسْلِ الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ : " تُنَظِّفُ فَرْوَتَهَا ، وَلَا تَحُلُّ رَأْسَهَا " .
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ناعم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرد کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ اپنے بالوں کو اچھی طرح صاف کرے اور اپنی کھال (جلد) کو پانی سے خوب سیراب کرے۔“ اور میں نے ان سے عورت کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنے سر کی جلد کو تو اچھی طرح صاف کرے لیکن اسے اپنے (گوندھے ہوئے) بال کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
یہ اثر غسلِ جنابت کی کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ غسل میں بالوں کی جڑوں اور پوری جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے، البتہ عورت اگر بال گوندھ کر چٹیا بنائی ہوئی ہو تو اسے محض سر کی کھال تک پانی پہنچانا کافی ہے، بال کھولنا لازم نہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الغسل / حدیث: 172
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»