المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَمَّامِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَرِّي باب: حمام (عوامی غسل خانے) کے احکام اور برہنہ ہونے کی کراہت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نِعْمَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ ، يُذْهِبُ الْوَسَخَ ، وَيُذَكِّرُ النَّارَ " .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
173 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ ، يَدْخُلُهُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ; لِأَنَّهُ إِذَا دَخَلَهُ سَأَلَ تَعَالَى الْجَنَّةَ ، وَاسْتَعَاذَ بِهِ مِنَ النَّارِ . وَبِئْسَ الْبَيْتُ الْعُرْسُ يَدْخُلُهُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ; لِأَنَّهُ إِذَا دَخَلَهُ رَغَّبَهُ فِي الدُّنْيَا ، وَأَنْسَاهُ الْآخِرَةَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”حمام (عوامی غسل خانہ) کیا ہی بہترین جگہ ہے، یہ جسم سے میل کچیل کو دور کرتا ہے اور (اپنی تپش کی وجہ سے جہنم کی) آگ کی یاد دلاتا ہے“۔
یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔
نیز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حمام کیا ہی عمدہ مقام ہے جس میں ایک مسلمان مرد داخل ہوتا ہے؛ کیونکہ جب وہ وہاں (حرارت محسوس کر کے) داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں آگ سے پناہ طلب کرتا ہے۔ اور شادی کی تقریب (جس میں لہو و لعب ہو) کیا ہی بری جگہ ہے جس میں ایک مسلمان مرد داخل ہوتا ہے؛ کیونکہ جب وہ اس میں شامل ہوتا ہے تو وہ اسے دنیا کی طرف راغب کر دیتی ہے اور اسے آخرت سے غافل کر دیتی ہے“۔