المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْغُسْلِ باب: غسل کے طریقۂ کار اور اس کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سِيلَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَيُخْطِئُ بَعْضَ جَسَدِهِ الْمَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْسِلُ ذَلِكَ الْمَكَانَ ، ثُمَّ يُصَلِّي " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے اس آدمی کے متعلق دریافت کیا جو غسلِ جنابت کرتا ہے لیکن اس کے جسم کا کوئی حصہ پانی لگنے سے رہ جاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ (شخص) اس جگہ کو دھو لے اور پھر نماز ادا کرے۔“
اس حدیث کی تخریج امام دارقطنی (748) اور امام بزار (1560) نے کی ہے، اس کی سند میں جابر بن سیلان نامی راوی موجود ہیں جو کہ مجہول ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔