المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهَةِ الطلاق باب: طلاق کے ناپسندیدہ اور مکروہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1715
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي التَّزْوِيجِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ ثَلَاثًا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزَوَّجْ ، وَلَا تُطَلِّقْ ; فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُبْغِضُ الذَّوَّاقِينَ وَالذَّوَّاقَاتِ ".ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کرنے لگا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں تین مرتبہ نکاح کر چکا ہوں، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نکاح تو کرو مگر طلاق نہ دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ محض لذت حاصل کرنے کی خاطر کثرت سے نکاح اور طلاق دینے والے مردوں اور عورتوں کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔“