المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عدد الطلاق باب: طلاق کی تعداد کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : سَمِعْتُ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : الطَّلاقُ مَرَّتَانِ ، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ ؟ قَالَ : " فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ".سیدنا ابو رَزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۲۹)، تو پھر تیسری طلاق کا ذکر کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» یعنی تیسری صورت یا تو معروف طریقے کے مطابق عورت کو نکاح میں روک لینا ہے یا پھر حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کر دینا ہے“۔
اس حدیثِ مبارکہ کی تشریح میں ائمہ فرماتے ہیں کہ دو طلاقوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ بھلے طریقے سے روک لو یا احسان کے ساتھ رخصت کر دو، دراصل تیسری طلاق اور اس کے بعد کے حتمی فیصلے کی وضاحت ہے۔