❮
❯
حدیث نمبر: 1716
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : سَمِعْتُ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : الطَّلاقُ مَرَّتَانِ ، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ ؟ قَالَ : " فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ".
ترجمہ

سیدنا ابو رَزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۲۹)، تو پھر تیسری طلاق کا ذکر کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» یعنی تیسری صورت یا تو معروف طریقے کے مطابق عورت کو نکاح میں روک لینا ہے یا پھر حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کر دینا ہے“۔
اس حدیثِ مبارکہ کی تشریح میں ائمہ فرماتے ہیں کہ دو طلاقوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ بھلے طریقے سے روک لو یا احسان کے ساتھ رخصت کر دو، دراصل تیسری طلاق اور اس کے بعد کے حتمی فیصلے کی وضاحت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1716
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 1، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2522، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 7589»