المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْغُسْلِ باب: غسل کے طریقۂ کار اور اس کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَمَا يَكْفِينَا مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " .
170 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ - بِهِ .
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ثقیف کے وفد نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہماری سرزمین ایک سرد علاقہ ہے، تو «غُسْلِ الْجَنَابَةِ» ”غسلِ جنابت“ کے لیے (پانی کی کتنی مقدار یا کیا طریقہ) ہمیں کافی ہوگا؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں (غسل کرتے ہوئے) اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے ابن ابی سمینہ سے، انہوں نے معتمر بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے۔