المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُطْلَقَةِ ثلاثا لَا تعود حَتَّى تنكح وتذوق العسيلة باب: تین طلاق والی عورت کے دوسرے شوہر سے نکاح اور ازدواجی تعلق کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، نَبَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَكِّيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُسَيْلَةُ : الْجِمَاعُ ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عسیلہ (شہد کی مٹھاس چکھنے) سے مراد جماع (ہم بستری) ہے“۔
شارحینِ حدیث کے مطابق یہاں لفظِ 'عسیلہ' استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس سے مراد وہ لذت ہے جو میاں بیوی کے باہمی تعلق سے حاصل ہوتی ہے؛ یہ اس شرعی حکم کی وضاحت ہے کہ تین طلاقوں کے بعد عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے تب تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک وہ دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد باقاعدہ ازدواجی تعلق قائم نہ کر لے جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے: ﴿حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (سورة البقرة: 230)۔