المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُطْلَقَةِ ثلاثا لَا تعود حَتَّى تنكح وتذوق العسيلة باب: تین طلاق والی عورت کے دوسرے شوہر سے نکاح اور ازدواجی تعلق کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا مَرْوَانُ - بِهِ . وَزَادَ : عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّمَا عَنَى بِالْعُسَيْلَةِ النِّكَاحَ ".ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(حدیث میں مذکور لفظ) عُسیلہ (شہد کی تھوڑی سی مٹھاس) سے آپ ﷺ کی مراد نکاح (اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ازدواجی لذت) ہے“
شارحینِ حدیث کے مطابق اس نبوی وضاحت کا مقصد اس شرعی حکم کو بیان کرنا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ کے بعد مطلقہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد باقاعدہ ازدواجی تعلق قائم نہ کر لے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (سورة البقرة: 230)۔