المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُطْلَقَةِ ثلاثا لَا تعود حَتَّى تنكح وتذوق العسيلة باب: تین طلاق والی عورت کے دوسرے شوہر سے نکاح اور ازدواجی تعلق کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، نَبَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، مِثْلَ الْحَدِيثِ قَبْلَهُ ... " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (تین طلاق پانے والی عورت کے متعلق) ارشاد فرمایا: ”وہ عورت اس (پہلے شوہر) کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ (اپنے دوسرے شوہر کا) شہد نہ چکھ لے (یعنی اس کے ساتھ ازدواجی تعلق استوار نہ کر لے)۔“
شارحینِ حدیث کے نزدیک اس تمثیل سے مراد جماع اور ہم بستری کی لذت حاصل کرنا ہے، جو کہ مطلقہ ثلاثہ کے اپنے پہلے شوہر کی طرف رجوع کرنے کے لیے نکاحِ ثانی کے بعد ایک لازمی شرعی شرط ہے۔