المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُطْلَقَةِ ثلاثا لَا تعود حَتَّى تنكح وتذوق العسيلة باب: تین طلاق والی عورت کے دوسرے شوہر سے نکاح اور ازدواجی تعلق کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَوِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ : إِنَّ الْغُمَيْصَاءَ أَوِ الرُّمَيْصَاءَ جَاءَتْ تَشْكُو زَوْجَهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا . فَقَالَ : كَذَبَتْ يَا رَسُولَ اللهِ ! إِنِّي لَأَفْعَلُ ، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا ".سیدنا عبید اللہ یا سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ سیدہ غمیصاء یا سیدہ رمیصاء رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی شکایت لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ ان کا شوہر ان کے قریب نہیں آتا، اس پر ان کے شوہر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ غلط بیانی کر رہی ہیں، میں تو ان کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرتا ہوں، دراصل یہ (اپنے نکاح کو ختم کر کے) اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ عورت اس وقت تک (اپنے پہلے شوہر کے لیے) حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنے موجودہ شوہر کے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ذریعے یہ شرعی مسئلہ واضح فرمایا ہے کہ مطلقہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس اس وقت تک نہیں لوٹ سکتی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد باقاعدہ صنفی لذت حاصل نہ کر لے۔