❮
❯
حدیث نمبر: 1704
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : طَلَّقَ رَجُلٌ مِنْ أَجْدَادِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا ، فَأَتَى بَنُوهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَقِّ اللهَ فَيَجْعَلَ لَهُ مَخْرَجًا ، بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ . وَسَائِرُهَا عُدْوَانٌ ; اتَّخَذَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا ".
ترجمہ

سیدنا داؤد بن ابراہیم بن عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اسلاف میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، پھر ان کے صاحبزادے رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے والد نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا کہ وہ اس کے لیے (نکلنے کی) کوئی راہ پیدا فرماتا جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ (سورہ الطلاق: ۲)، وہ عورت تین ہی طلاقوں کے سبب اس سے جدا ہو چکی ہے، اور بقیہ تمام طلاقیں سراسر زیادتی اور سرکشی ہیں؛ اس شخص نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ (سورہ البقرہ: ۲۳۱)۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1704
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»