المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إمضاء الطلاق الثلاث بلفظ وَاحِدٍ إِذَا نوى باب: ایک ہی کلمے کے ساتھ دی جانے والی تین طلاقوں کے نافذ اور مؤثر ہو جانے کا بیان، بشرطیکہ شوہر کی نیت (تین ہی طلاقیں دینے کی) ہو۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الَّتِي لَمْ يُدْخَلْ بِهَا إِذَا جَمَعَ الثَّلَاثَ عَلَيْهَا وَقَعَتْ " . قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً . قَالَ : وَقَالَ عَمْرٌو : وَاحِدَةٌ وَإِنْ جَمَعَهُنَّ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”وہ عورت جس کے ساتھ ابھی خلوت و رخصتی نہ ہوئی ہو، جب اس پر بیک وقت تینوں طلاقیں جمع کر دی جائیں تو وہ واقع ہو جاتی ہیں۔“ حسن بن مسلم کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا تذکرہ امام طاؤس رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اسے ایک ہی طلاق شمار کرتے تھے۔ عمرو نے بھی یہی کہا کہ وہ ایک ہی طلاق ہے اگرچہ ان تینوں کو (لفظاً) جمع کر دیا گیا ہو۔
اس روایت میں غیر مدخولہ کی بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کے حکم کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو مختلف آراء منقول ہیں؛ پہلی رائے کے مطابق تینوں واقع ہو جائیں گی جبکہ امام طاؤس کی شہادت کے مطابق ان کا دوسرا موقف یہ تھا کہ اسے صرف ایک ہی طلاق شمار کیا جائے گا۔