المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إمضاء الطلاق الثلاث بلفظ وَاحِدٍ إِذَا نوى باب: ایک ہی کلمے کے ساتھ دی جانے والی تین طلاقوں کے نافذ اور مؤثر ہو جانے کا بیان، بشرطیکہ شوہر کی نیت (تین ہی طلاقیں دینے کی) ہو۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ : هِيَ طَالِقٌ ثَمَانِيًا ؟ فَقَالَ : أَبِمَرَّةٍ وَاحِدَةٍ قُلْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : هُوَ كَمَا قُلْتَ .
ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ : اللَّيْلَةَ هِيَ طَالِقٌ عَدَدَ النُّجُومِ ؟ قَالَ : أَبِمَرَّةٍ قُلْتَهَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
فَذَكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِسَاءَ أَهْلِ الْأَرْضِ عِنْدَ ذَلِكَ بِشَيْءٍ لَا أَحْفَظُهُ ، ثُمَّ قَالَ : بَيَّنَ اللهُ لَكُمْ كَيْفَ الطَّلَاقُ ، فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى بُيِّنَ لَهُ ، وَمَنْ لُبِّسَ بِهِ جَعَلْنَا بِهِ لَبْسَهُ ، وَاللهِ لَا تَلْبِسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ ، هُوَ كَمَا تَقُولُونَ .
هَذَا إِسْنَادٌ مَوْقُوفٌ ، وَهُوَ صَحِيحٌ ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ سَمِعَهُ مِنْ عَلْقَمَةَ ، وَقَدْ وَقَعَ التَّصْرِيحُ بِتَحْدِيثٍ لَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ .سیدنا علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں موجود تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے آٹھ طلاقیں ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا تم نے یہ کلمات ایک ہی بار میں کہے ہیں؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جائے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: پھر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا تم نے کہا۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور عرض کیا: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج رات اسے ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں ہیں؟ آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے یہ ایک ہی مرتبہ کہا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جائے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ اس وقت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے روئے زمین کی عورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کچھ ارشاد فرمایا جو مجھے یاد نہیں رہا، پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے واضح فرما دیا ہے کہ طلاق کا طریقہ کار کیا ہے، پس جس نے اسی طریقے پر طلاق دی جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اس کے لیے شرعی حکم واضح کر دیا گیا، اور جو شخص خود معاملے کو خلط ملط اور مشتبہ کرے گا ہم اس کی الجھن کو اسی پر لوٹا دیں گے؛ اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا کہ تم اپنے معاملات خود الجھاؤ اور اس کا بوجھ ہم اٹھائیں، اس کا وہی حکم ہے جو تم خود اپنی زبان سے کہہ رہے ہو۔
یہ اسناد موقوف ہے اور یہ صحیح ہے بشرطیکہ محمد بن سیرین نے اسے علقمہ سے سنا ہو، اور امام بیہقی کی روایت میں اس حدیث کی ان سے تحدیث کی صراحت آچکی ہے۔