المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كنايات الطلاق باب: طلاق کے کنائی الفاظ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ ، وَامْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِنَا - أَنَّ كِنَانَةَ بْنَ ثَوْرٍ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ لَهَا : مَا فَوْقَ نِطَاقِكِ مُحَرَّمٌ . فَخَاصَمَتْهُ إِلَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ ؟ قَالَ : الطَّلَاقَ . قَالَ : " فَقَدْ أَبَانَهَا مِنْكَ ".ترجمہ
ابو ثمامہ اور ہمارے گھرانے کی ایک خاتون سے روایت ہے کہ کنانہ بن ثور کے نکاح میں ایک ایسی خاتون تھیں جن سے زمانۂ جاہلیت میں ان کے ہاں اولاد پیدا ہوئی تھی، کنانہ نے (کسی بات پر) ان سے کہہ دیا کہ تمہارے تہبند کے اوپر کا تمام جسم مجھ پر حرام ہے، چنانچہ وہ خاتون یہ نزاع لے کر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی عدالت میں حاضر ہوئیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: "تمہاری اس قول سے کیا نیت تھی؟" انہوں نے عرض کیا: "میرا ارادہ طلاق کا تھا"؛ جس پر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ شرعی فیصلہ صادر فرمایا: ”اس جملے نے اس عورت کو تم سے جدا (بائن) کر دیا ہے“۔