المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كنايات الطلاق باب: طلاق کے کنائی الفاظ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1699
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْحَرَامِ : " إِنْ كَانَ نَوَى طَلَاقًا فَهُوَ طَلَاقٌ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى طَلَاقًا فَيَمِينٌ تُكَفِّرُهَا ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کو (یا اپنی بیوی کو) خود پر حرام قرار دینے کے شرعی حکم کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر اس نے اس کلمہِ حرام سے طلاق کی نیت کی تھی تو وہ طلاق ہی شمار ہوگی، اور اگر اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو یہ محض ایک قسم ہے جس کا اسے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔“