المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْغُسْلِ باب: غسل کے طریقۂ کار اور اس کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 169
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : " ثَلَاثًا " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ ؟ فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ " .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسلِ جنابت کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تین مرتبہ (پانی بہانا کافی ہے)۔“ اس شخص نے (تعجب سے) عرض کیا کہ میرے بال بہت گھنے ہیں؟ تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے موئے مبارک تم سے کہیں زیادہ گھنے اور حد درجہ پاکیزہ و معطر تھے۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عطیہ عوفی ضعیف ہے، تاہم غسل میں تین بار پانی بہانے کی اصل دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔