❮
❯
حدیث نمبر: 1698
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمِّهِ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : جَاءَ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : الْقَدَرُ . قَالَ : " هِيَ وَاحِدَةٌ ; إِنْ شِئْتَ رَاجَعْتَهَا ، وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهَا ".
ترجمہ

سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن ابی عتیق سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں کس بات نے رلایا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اپنی اہلیہ کو اس کے معاملے کا خود مالک بنا دیا تھا (یعنی اسے طلاق کا اختیار دے دیا تھا) جس پر اس نے مجھ سے علیحدگی اختیار کر لی، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ تقدیرِ الہیٰ نے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا: ”یہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی؛ اب اگر تم چاہو تو اس سے رجوع کر لو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه موطأ مالك برقم: 2036، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 1621، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 15143، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 11917، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 18380»