المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كنايات الطلاق باب: طلاق کے کنائی الفاظ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1697
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقًا قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : " إِذَا قَالَ : أَمْرُكِ بِيَدِكِ ، وَاسْتَصْلِحِي بِأَمْرِكِ ، وَقَدْ وَجَّهْتُكِ لِأَهْلِكِ إِنْ قَبِلُوهَا - فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (طلاق کے حوالے سے) فرمایا: ”اگر کوئی شوہر (اپنی بیوی سے) یہ کہے کہ ’تیرا معاملہ تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تو اپنے حق میں بہتری کا فیصلہ خود کر لے، اور میں نے تجھے تیرے گھر والوں کی طرف بھیج دیا ہے بشرطیکہ وہ تجھے قبول کر لیں‘ تو یہ ایک طلاقِ بائن (جس سے نکاح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے) متصور ہوگی۔“