❮
❯
حدیث نمبر: 1696
قَالَ مُسَدَّدٌ : وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ شُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا خَطَبَ امْرَأَةً ، فَقَالُوا : لَا نُزَوِّجُكَ حَتَّى تُطَلِّقَ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ طَلَّقْتُ ثَلَاثًا .
فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ ادَّعَوُا الطَّلَاقَ ، فَقَالَ لَهُمْ : كَيْفَ قُلْتُ ؟ قَالَ : قُلْنَا : لَا نُزَوِّجُكَ حَتَّى تُطَلِّقَ ثَلَاثًا ، فَطَلَّقْتَ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ فَطَلَّقْتُهَا ، وَفُلَانَةُ كَانَتْ تَحْتِي فَطَلَّقْتُهَا ، حَتَّى عَدَّ ثَلَاثًا .
قَالُوا : مَا هَذَا أَرَدْنَا . فَوَرَدَ شَقِيقُ بْنُ ثَوْرٍ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَمَرُوهُ أَنْ يَسْأَلَ عُثْمَانَ عَنْ ذَلِكَ ، فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَهُ ، وَأَخْبَرَ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : " لَهُ نِيَّتُهُ ".
ترجمہ

سیدنا شُمَیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا تو لڑکی والوں نے یہ شرط رکھی کہ ہم تمہارا نکاح اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک تم تین طلاقیں نہ دے دو، اس پر اس شخص نے (مبہم طور پر) کہا: تم گواہ رہو کہ میں نے تین طلاقیں دے دیں، پھر جب وہ اس عورت سے نکاح کر کے اس کے پاس گیا تو ان لوگوں نے اس پر طلاق واقع ہونے کا دعویٰ کر دیا، اس شخص نے ان سے پوچھا: میں نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم نے کہا تھا کہ جب تک تم تین طلاقیں نہ دے دو ہم تمہارا نکاح نہیں کریں گے، اور تم نے تین طلاقیں دے دیں، اس شخص نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے فلاں کی بیٹی سے نکاح کیا تھا اور اسے طلاق دے دی تھی، اور فلاں عورت بھی میرے عقد میں تھی جسے میں نے طلاق دی، یہاں تک کہ اس نے اپنی سابقہ دی ہوئی تینوں طلاقیں گنوا دیں، انہوں نے کہا: ہماری مراد یہ نہیں تھی (بلکہ ہم اس نئی بیوی کی طلاق مراد لے رہے تھے)، چنانچہ شقیق بن ثور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ لوگوں نے انہیں اس معاملے کے متعلق دریافت کرنے کے لیے بھیجا تھا، جب وہ پہنچے تو انہوں نے مسئلہ پوچھا اور واپس آ کر بتایا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ صادر فرمایا: ”اس شخص کے لیے وہی حکم ہے جو اس کی نیت تھی“
اس فقہی اثر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طلاق کے کنایہ یا مبہم الفاظ میں خاوند کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا، جیسا کہ خلیفہ راشد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نیت کے مطابق اس شخص کے حق میں فیصلہ دیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1696
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 1017، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 18280»