المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الحضانة باب: حضانت یعنی بچوں کی پرورش اور ان کی نگہداشت کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1684
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، ثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَلَّقَ أُمَّ عَاصِمٍ ، فَمَاتَتْ ، وَبَقِيَ عَاصِمٌ فِي حِجْرِ جَدَّتِهِ ، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَضَى بِأَنَّ الْوَلَدَ يَكُونُ مَعَ جَدَّتِهِ ، وَالنَّفَقَةَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . قَالَ : " هِيَ أَحَقُّ بِهِ ".ترجمہ
مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام عاصم کو طلاق دے دی تھی، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور عاصم اپنی نانی کی آغوشِ تربیت میں رہ گئے، چنانچہ نانی نے اس معاملے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ بچہ اپنی نانی ہی کے پاس رہے گا اور اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر ہوگی، اور فرمایا: ”وہ (نانی) اس بچے کی زیادہ حقدار ہے۔“