❮
❯
حدیث نمبر: 1683
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ : أَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ تَزَوَّجَ ابْنَةَ عَمٍّ لَهُ ، فَوَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً ، فَمَاتَ عَنْهَا ، فَخَلَفَ عَلَيْهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ . فَقَالَ أَوْلِيَاؤُهَا : لَا نَدَعُ ابْنَتَنَا تَكُونُ عِنْدَهُمْ .
فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتِ الْأُمُّ : أَنَا الْحَامِلُ الْحَاضِنُ وَالْمُرْضِعُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَخْتَارِينَ ؟ " فَقَالَتْ : أَخْتَارُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَدَارَ الْإِيمَانِ ، وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْهَبُوا بِهَا مَا دَامَتْ عَيْنِي تَكْلَؤُهَا ، وَلَأَنْ بَقِيتُ لَأَضَعَنَّهَا مَوْضِعًا يُقِرُّ عَيْنَهَا " .
قَالَ : فَاخْتَصَمُوا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهَا : مَنْ تَخْتَارِينَ ؟ فَقَالَتْ مِثْلَ الْقَوْلِ الْأَوَّلِ ، فَقَضَى بِهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْأَوْلِيَاءِ ، فَقَامَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ... فَقَضَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَا قَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، وَمُنْقَطِعٌ أَيْضًا .
ترجمہ

محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ دیہات کے ایک شخص نے اپنی چچا زاد سے نکاح کیا جس سے اس کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی، پھر وہ شخص فوت ہو گیا اور اس خاتون نے ایک انصاری مرد سے شادی کر لی۔ بچی کے (پدری) سرپرستوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو ان لوگوں کے پاس نہیں رہنے دیں گے۔ چنانچہ وہ یہ جھگڑا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو ماں نے عرض کی کہ میں ہی اس کی حاملہ، اس کی پرورش کرنے والی اور اسے دودھ پلانے والی ہوں، تب رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون سے دریافت فرمایا: ”تم کس کا انتخاب کرتی ہو؟“ اس نے عرض کی: میں اللہ، اس کے رسول، دارِ ایمان (مدینہ منورہ) اور مہاجرین و انصار کا انتخاب کرتی ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس (بچی) کو لے کر مت جاؤ جب تک میری آنکھ اس کی نگہبانی کر رہی ہے، اور اگر میں زندہ رہا تو میں ضرور اسے ایسے مقام پر رکھوں گا جو اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو گا“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ لوگ یہی مقدمہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے بھی اس خاتون سے پوچھا کہ تم کسے منتخب کرتی ہو؟ اس نے وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا۔ پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بچی کا فیصلہ سرپرستوں کے حق میں کر دیا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے ابوبکر...! (یعنی انہیں رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ یاد دلایا) چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہی فیصلہ فرمایا جو رسول اللہ ﷺ فرما چکے تھے۔
محدثِ مبارک اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے اور یہ منقطع بھی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1683
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، وَمُنْقَطِعٌ أَيْضًا . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 19466»