المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يجوز مِنْ اللهو باب: کھیل کود اور تفریح کی ان صورتوں کا بیان جو (شرعاً) جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 1682
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، يَرْفَعُهُ : أَنَّهُ مَرَّ عَلَى أَصْحَابِ الدِّرَكْلَةِ فَقَالَ : " خُذُوا يَا بَنِي أَرْفَدَةَ ; لِيَعْلَمَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً " . قَالَ : فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ انْذَعَرُوا .ترجمہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ 'درکلہ' (حبشیوں کے ایک مخصوص روایتی کھیل) میں مصروف کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو ارفدہ! تم اپنا کھیل جاری رکھو تاکہ یہود و نصاریٰ کو یہ علم ہو جائے کہ ہمارے دین میں وسعت اور گنجائش موجود ہے“؛ راوی کا بیان ہے کہ وہ لوگ ابھی اسی حالت میں تھے کہ اچانک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے، پس جیسے ہی ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو وہ (آپ کے جلال و ہیبت کی وجہ سے) ڈر کر تتر بتر ہو گئے۔