المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الوصية بالنساء باب: عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کا بیان۔
( 73 ) تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ حَدِيثٌ .
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ الْعُكْلِيُّ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ خُطْبَةً طَوِيلَةً ، وَفِيهَا : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النِّسَاءَ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ ، أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ .
وَمِنْ حَقِّكُمْ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ ، وَلَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ ، فَإِذَا فَعَلْنَ ذَلِكَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، فَإِذَا ضَرَبْتُمْ فَاضْرِبُوا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ... الْحَدِيثَ .
1674 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ ، فَشَكَيْنَ . فَأَذِنَ لَهُمْ فِي ضَرْبِهِنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً ، كُلُّهُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ . وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَرَى الرَّجُلَ ثَائِرًا عَصَبَةً ، فَرِيصُ رَقَبَتِهِ عَلَى مُرَيْئَتِهِ يَقْتُلُهَا .
قُلْتُ : هَذَا مُرْسَلٌ ، وُلِدَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بَعْدَ مَوْتِ أَبِي بَكْرٍ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل خطبے کے دوران ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک تمہاری عورتیں تمہارے پاس قیدیوں اور ماتحتوں کی طرح ہیں، تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ اپنے عقد میں لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کے وجود کو اپنے لیے حلال کیا ہے؛ تمہارا ان پر حق ہے اور ان کا تم پر حق ہے، تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی غیر کو نہ آنے دیں اور معروف کاموں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں، پس جب وہ یہ حقوق ادا کریں تو ان کا معروف طریقے کے مطابق رزق اور لباس فراہم کرنا تمہارے ذمے واجب ہے، اور اگر تم انہیں (تادیباً) مارو تو ایسی مار مارو جو تکلیف دہ اور نشان ڈالنے والی نہ ہو...“۔ مزید برآں سیدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے پہل عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا تھا، پھر جب صحابہ نے (ان کی نافرمانی کی) شکایت کی تو آپ ﷺ نے انہیں (ہلکا سا) مارنے کی اجازت عطا فرما دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آج رات آلِ محمد ﷺ کے گھروں کے گرد ستر عورتوں نے چکر لگائے ہیں جن میں سے ہر ایک کو مارا گیا تھا“، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں یہ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کسی شخص کو اپنی بیوی پر اس قدر غصے میں بپھرا ہوا دیکھوں کہ اس کی گردن کے پٹھے تنے ہوئے ہوں اور وہ اسے جان سے مار ڈالنے کے درپے ہو“۔
محقق فرماتے ہیں کہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ سیدہ ام کلثوم کی پیدائش سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہوئی تھی۔