المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ الزوج عَلَى الْمَرْأَةِ باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1673
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أُمِّ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : بَايَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا : " أَنْ لَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ . قَالَتْ : فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، قُلْنَا : أَوَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا ؟ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَسَأَلَتْهُ ، فَقَالَ : أَنْ تُخَانِينَ وَتُهَادِينَ مَالَهُ إِلَى غَيْرِهِ .ترجمہ
سیدہ ام سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی چند خواتین کے ہمراہ ہم سے بیعت لی اور ہم سے یہ پختہ عہد لیا کہ ”تم اپنے شوہروں کو ہرگز دھوکہ نہ دینا۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ جب ہم وہاں سے رخصت ہوئیں تو ہم نے آپس میں کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے یہ دریافت کر لینا چاہیے تھا کہ شوہروں کے ساتھ دھوکہ دہی سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ ہم دوبارہ آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد یہ ہے کہ تم ان کے حق میں خیانت کرو اور ان کے مال کو (ان کی مرضی کے بغیر) دوسروں کو تحفے میں دینے لگو۔“