❮
❯
حدیث نمبر: 1675
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ! إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ! إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا ! إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ، وَبِآبَائِكُمْ ، وَإِخْوَانِكُمْ ، وَعَمَّاتِكُمْ ، وَخَالَاتِكُمْ .
إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَمَا يَعْلَمُ مَا لَهُ بِهَا مِنَ الْخَيْرِ ، فَمَا يَرْغَبُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ حَتَّى يَمُوتَا هَرَمًا " .
قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْعَلَاءَ بْنَ سُفْيَانَ الْغَسَّانِيَّ ، فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ الْفَوَاحِشَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ تَعَالَى فِيمَا بَطَنَ مِمَّا لَمْ يَتَبَيَّنْ ذِكْرُهَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ ، فَإِذَا قَدُمَتْ صُحْبَتُهَا ، وَطَالَ عَهْدُهَا ، وَنَفَضَتْ مَا فِي بَطْنِهَا - طَلَّقَهَا مِنْ غَيْرِ رِيبَةٍ .
رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ " مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْمِقْدَامِ .
ترجمہ

سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کے درمیان (خطاب کے لیے) کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں عورتوں کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے! اللہ تمہیں عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت فرماتا ہے! اللہ تمہیں عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کی وصیت فرماتا ہے! اللہ تمہیں تمہاری ماؤں، تمہارے باپوں، تمہارے بھائیوں، تمہاری پھوپھیوں اور تمہاری خالاؤں کے ساتھ صلہ رحمی کی وصیت فرماتا ہے“
(اس کے بعد مزید تذکرہ ہوا کہ) اہلِ کتاب میں سے ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اسے اس عورت کے ذریعے ملنے والی خیر کا (پورا) علم نہیں ہوتا، چنانچہ ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے ساتھی سے بیزاری کا اظہار نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ دونوں بڑھاپے کی حالت میں وفات پا جاتے ہیں
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث جب علاء بن سفیان غسانی کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ پوشیدہ بے حیائیاں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَمَا بَطَنَ﴾ [سورة الأنعام: 151] فرما کر حرام کیا ہے اور جن کی تفصیلی صراحت قرآن میں نہیں آئی، ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ ایک مرد کسی عورت سے شادی کرے، پھر جب اس کی رفاقت پرانی ہو جائے، تعلق طویل ہو جائے اور وہ (بچے پیدا کر کے) اپنے بطن کی امانت سے فارغ ہو جائے تو وہ مرد اسے کسی شرعی عیب یا شک و شبہ کے بغیر محض بیزاری کی بنا پر طلاق دے دے
امام ابنِ ماجہ نے اس حدیث کا یہ حصہ کہ ”بے شک اللہ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت فرماتا ہے“ ایک دوسری سند سے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7339، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3661، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 7860، وأخرجه مسند أحمد برقم: 17457، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 637»