المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ الزوج عَلَى الْمَرْأَةِ باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1671
وَقَالَ إِسْحَاقُ فِي مُسْنَدِهِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ : أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَتَتْ أَبَاهَا تَشْكُو الزُّبَيْرَ ، فَقَالَ لَهَا : " ارْجِعِي يَا بُنَيَّةُ ، إِنْ صَبَرْتِ وَأَحْسَنْتِ صُحْبَتَهُ ، ثُمَّ مَاتَ ، فَلَمْ تَنْكِحِي بَعْدَهُ ، وَدَخَلْتُمَا الْجَنَّةَ - كُنْتِ زَوْجَتَهُ ".ترجمہ
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اپنے والدِ محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے شوہر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر حاضر ہوئیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے میری پیاری بیٹی! اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ، کیونکہ اگر تم نے صبر کا دامن تھامے رکھا اور ان کی رفاقت کو بہترین طریقے سے نبھایا، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور تم نے ان کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کیا اور تم دونوں اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہو گئے، تو تم وہاں بھی ان کی زوجہ رہو گی۔"