❮
❯
حدیث نمبر: 1670
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِي ، عَنِ الْإِفْرِيقِيِّ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غُرَابٍ قَالَ : إِنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : إِنَّ زَوْجَ إِحْدَانَا يُرِيدُهَا فَتَمْنَعُهُ نَفْسَهَا ; إِمَّا أَنْ تَكُونَ غَضْبَى ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ غَيْرَ نَشِيطَةٍ لَهُ . فَهَلْ عَلَيْهَا فِي ذَلِكَ مِنْ حَرَجٍ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ . إِنَّ حَقَّهُ عَلَيْكِ أَنْ لَوْ أَرَادَكِ وَأَنْتِ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعِيهِ " ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ

عمارہ بن غراب سے مروی ہے کہ ان کی پھوپھی نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کی کہ اگر ہم میں سے کسی کا شوہر اپنی زوجہ سے (خلوت و ہم بستر ہونے کا) ارادہ کرے مگر وہ عورت انکار کر دے، خواہ وہ ناراضی کی کیفیت میں ہو یا اس وقت اس کی طبیعت میں اس کام کے لیے نشاط و آمادگی نہ ہو، تو کیا ایسی صورت میں اس عورت پر کوئی تنگی یا گناہ ہے؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواباً ارشاد فرمایا: ”ہاں! (یہ گناہ کا باعث ہے)۔ تمہارے اوپر تمہارے شوہر کا حق اس قدر لازم اور عظیم ہے کہ اگر وہ تمہیں اس حالت میں بھی طلب کرے کہ تم اونٹ کے پالان (کجاوے) پر سوار ہو، تب بھی تمہیں اسے منع نہیں کرنا چاہیے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 270، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 1528، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 206»