المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ الزوج عَلَى الْمَرْأَةِ باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، نَبَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، نَبَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ ، فَمَرِضَ أَبُوهَا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَبِي مَرِيضٌ ، وَزَوْجِي يَأْبَى أَنْ يَأْذَنَ لِي أَنْ أُمَرِّضَهُ ! فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطِيعِي زَوْجَكِ " .
فَمَاتَ أَبُوهَا ، فَاسْتَأْذَنَتْ زَوْجَهَا أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَأَبَى زَوْجُهَا أَنْ يَأْذَنَ لَهَا فِي الصَّلَاةِ ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا : " أَطِيعِي زَوْجَكِ " .
فَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا ، وَلَمْ تُصَلِّ عَلَى أَبِيهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ غَفَرَ اللهُ لِأَبِيكِ بِطَوَاعِيَتِكِ زَوْجَكِ " .
1669 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، فَذَكَرَهُ ، لَكِنْ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا غَزَا وَامْرَأَتُهُ فِي عُلْوٍ ، وَأَبُوهَا فِي سُفْلٍ ، وَأَمَرَهَا أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا ، فَاشْتَكَى أَبُوهَا ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون کسی شخص کے عقدِ نکاح میں تھیں، ان کے والد بیمار ہوئے تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے والد علیل ہیں جبکہ میرے شوہر مجھے ان کی تیمارداری کے لیے جانے کی اجازت دینے سے انکار کر رہے ہیں“۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اپنے شوہر کی اطاعت کرو“۔
پھر ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے اپنے شوہر سے ان کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونے کی اجازت چاہی، مگر شوہر نے پھر بھی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دوبارہ نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے پھر یہی ہدایت فرمائی: ”اپنے شوہر کی اطاعت کرو“۔
چنانچہ اس خاتون نے اپنے شوہر کی فرمانبرداری کی اور اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کی، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری اپنے شوہر کی اس اطاعت شعاری کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کی مغفرت فرما دی ہے“۔
امام حارث نے بھی اپنی سند سے یوسف بن عطیہ کے واسطے سے یہی واقعہ ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ایک شخص غزوہ کے لیے روانہ ہوا، اس کی بیوی گھر کی بالائی منزل پر رہتی تھی جبکہ اس کا والد نچلی منزل میں مقیم تھا، اس شخص نے اپنی اہلیہ کو سختی سے حکم دیا تھا کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلے، پھر اس کے والد بیمار ہو گئے... اور راوی نے آگے مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی ہے۔