❮
❯
حدیث نمبر: 1668
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى بِابْنَةٍ لَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ ابْنَتِي ، وَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطِيعِي أَبَاكِ " . كُلُّ ذَلِكَ تَرَدُّ عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي : مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ بِهِ قَرْحٌ ، أَوِ ابْتَدَرَ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَصَدِيدًا ، ثُمَّ لَحَسْتِيهِ بِلِسَانِكِ - مَا أَدَّيْتِ حَقَّهُ " . فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكِحُونَهُنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِنَّ " .
1668 \ 2 - أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرٍ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ رَبِيعَةَ إِلَّا جَعْفَرٌ ، انْتَهَى . وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْحَاكِمُ .
ترجمہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی صاحبزادی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ میری بیٹی ہے اور یہ نکاح کرنے سے انکار کرتی ہے“، اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس لڑکی سے فرمایا: ”اپنے والد کی اطاعت کرو“، وہ لڑکی بار بار اپنی بات پر اصرار کرتی رہی اور عرض کی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اس وقت تک نکاح نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہ بتا دیں کہ شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر شوہر کے جسم پر کوئی زخم ہو، یا اس کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ رہا ہو، پھر تم اسے اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کر دو، تب بھی تم نے اس کا حق ادا نہیں کیا“، یہ سن کر اس نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اب کبھی بھی نکاح نہیں کروں گی“، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ان عورتوں کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر نہ کیا کرو“۔
اس حدیث کو امام بزار نے جعفر کے واسطے سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے علم کے مطابق یہ صرف اسی سند سے مروی ہے اور ربیعہ سے اسے صرف جعفر نے ہی نقل کیا ہے، نیز امام ابن حبان اور امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1668
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 1، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 2821، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7639، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 4164، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 5622، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3202/1»