المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ الزوج عَلَى الْمَرْأَةِ باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، بَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُنَّ يَا كَوَافِرَ الْمُنْعِمِينَ ! " قَالَ : فَقُلْنَ : نَعُوذُ بِاللهِ أَنْ نَكْفُرَ نِعْمَةَ اللهِ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقُولُ إِحْدَاكُنَّ إِذَا غَضِبَتْ عَلَى زَوْجِهَا : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ . ! "امام حارث رحمہ اللہ نے اپنی معتبر سند کے ساتھ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر خواتین کی ایک جماعت پر ہوا تو آپ ﷺ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم پر سلام ہو اے اپنے محسنوں (شوہروں) کی ناشکری کرنے والیو!“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان خواتین نے (یہ تنبیہ سن کر) عرض کیا: «نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَكْفُرَ نِعْمَةَ اللَّهِ» ”ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ ہم اللہ کی نعمت کی ناشکری کریں!“ اس پر آپ ﷺ نے (ناشکری کی وضاحت کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”(تمہاری ناشکری کی صورت یہ ہے کہ) جب تم میں سے کوئی اپنے شوہر سے ناراض ہوتی ہے تو (جذبات میں آکر) کہہ دیتی ہے: میں نے تم سے کبھی زندگی بھر کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں!“
اس حدیثِ مبارکہ میں کفرانِ عشیر یعنی شوہر کی احسان فراموشی کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، جو کہ انسانی اخلاقیات اور شکر گزاری کے دینی تصور کے منافی ہے۔