❮
❯
حدیث نمبر: 1666
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَبَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمًا يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ، أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَمَرْتُ شَيْئًا يَسْجُدُ لِشَيْءٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ " .
قَالَ الْأَعْمَشُ : فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ امْرَأَةً لَحَسَتْ أَنْفَ زَوْجِهَا مِنَ الْجُذَامِ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ .
ترجمہ

انصار کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن سے (تبلیغِ دین کے بعد) واپس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو (تعظیماً) سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم آپ ﷺ کو سجدہ نہ کریں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی (مخلوق) کو یہ حکم دینے والا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔“
امام اعمش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے (شوہر کے حق کی اہمیت واضح کرتے ہوئے) فرمایا: اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی ناک سے جذام (کوڑھ) کی رطوبت کو اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کر دے، تب بھی وہ اس کا حقِ زوجیت کماحقہ ادا نہیں کر سکتی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1666
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1853، وأخرجه مسند أحمد برقم: 18913، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 5، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3207»