❮
❯
حدیث نمبر: 1665
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، نَبَا حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَيِّمٌ ، فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَقَّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ إِنْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرٍ أَنْ لَا تَمْنَعَهُ ، وَمِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَا تَصُومَ يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ جَاعَتْ وَعَطِشَتْ ، وَلَمْ يُقْبَلْ مِنْهَا .
وَمِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَا تُعْطِيَ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ كَانَ الْأَجْرُ لِغَيْرِهَا وَالشَّقَاءُ عَلَيْهَا . وَمِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ ، وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ ، حَتَّى تَرْجِعَ أَوْ تَتُوبَ " .
1665 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ .
1665 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : نَبَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، بِطُولِهِ . زَادَ الْبَزَّارُ فِي آخِرِهِ : قَالَتْ : لَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا .
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں جس کا شوہر نہیں ہے، پس مجھے خبر دیجیے کہ شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شوہر کا اپنی بیوی پر یہ حق ہے کہ اگر وہ اسے (مباشرت کے لیے) طلب کرے جبکہ وہ اونٹ کی پشت پر (سوار) ہو تب بھی وہ اسے نہ روکے، اور شوہر کا اپنی بیوی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی نفلی روزہ نہ رکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو وہ محض بھوکی اور پیاسی رہے گی اور اس کا روزہ (باعتبارِ ثواب) قبول نہیں کیا جائے گا۔
اور شوہر کا اپنی بیوی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز (کسی کو) نہ دے، اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کا اجر دوسروں (شوہر وغیرہ) کو ملے گا اور اس کا وبال اس عورت پر ہوگا۔ اور شوہر کا اپنی بیوی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر باہر نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتے، رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت بھیجتے رہیں گے جب تک کہ وہ (گھر) لوٹ نہ آئے یا توبہ نہ کر لے“۔
اس روایت کو امام مسدد کے علاوہ امام ابو یعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کیا ہے، جبکہ امام بزار نے اپنی روایت کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ (حقوق کی اہمیت سن کر) اس خاتون نے کہا: میں اب کبھی بھی نکاح نہیں کروں گی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1665
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7638، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3198/1»