المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ الزوج عَلَى الْمَرْأَةِ باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْنَعُهُ نَفْسَهَا وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ ، وَلَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ . وَلَا تَصُومُ يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ أَثِمَتْ وَلَمْ تُؤْجَرْ . وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ : مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ ، وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، حَتَّى تَتُوبَ أَوْ تَرْجِعَ " . قِيلَ : وَإِنْ كَانَ ظَالِمًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ ظَالِمًا " .
1664 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نَبَا لَيْثٌ ، فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ : " إِنْ كَانَ ظَالِمًا " : فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، لَا يَمْلِكُ عَلَيَّ أَمْرِي رَجُلٌ أَبَدًا .
1664 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ .
1664 \ 4 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ الْأَوَّلِ ، وَلَمْ يَقُلْ : قِيلَ : وَإِنْ كَانَ ظَالِمًا ... إِلَى آخِرِهِ .
1664 \ 5 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، ثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِسِيَاقِ جَرِيرٍ دُونَ الزِّيَادَةِ فِي آخِرِهِ .
وَهَذَا الِاخْتِلَافُ مِنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک خاتون حاضر ہوئی اور اس نے دریافت کیا کہ شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ (بیوی) اپنے آپ کو اس سے نہ روکے خواہ وہ اونٹ کے کجاوے پر ہی کیوں نہ ہو، اور وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز (صدقہ و خیرات میں) نہ دے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس کا اجر شوہر کو ملے گا اور گناہ اس عورت پر ہوگا، اور وہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی نفلی روزہ نہ رکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو وہ گناہ گار ہوگی اور اسے کوئی اجر نہیں ملے گا، اور وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر باہر نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو فرشتے یعنی غضب کے فرشتے اور رحمت کے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے یا واپس لوٹ آئے۔“ عرض کیا گیا: اگرچہ شوہر ظالم ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اگرچہ وہ ظالم ہو۔“
مسدد نے عبد الواحد بن زیاد کے واسطے سے لیث سے مروی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ اس خاتون نے یہ سن کر عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے! اب کوئی مرد کبھی بھی مجھ پر اختیار حاصل نہیں کر سکے گا (یعنی میں نکاح ہی نہیں کروں گی)۔ اسی طرح کی ایک روایت ابوبکر بن ابی شیبہ نے بھی عبد الرحیم بن سلیمان کے واسطے سے لیث سے نقل کی ہے، جبکہ عبد بن حمید نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے اور انہوں نے ابو معاویہ کے واسطے سے قطبہ سے اور انہوں نے لیث سے پہلی روایت کی مانند ہی الفاظ نقل کیے ہیں مگر اس میں ”اگرچہ وہ ظالم ہو“ والے جملے کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابو یعلیٰ نے زہیر اور محمد بن عبد الرحمن الطفاوی کے واسطے سے لیث سے اور انہوں نے عطا کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا، پھر انہوں نے جریر کی طرح پوری حدیث بیان کی مگر اس کے آخر میں اضافی الفاظ ذکر نہیں کیے۔
محدثین کے نزدیک سند کا یہ تمام تر اختلاف لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں۔