❮
❯
حدیث نمبر: 1663
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الْيَمَانُ أَبُو حُذَيْفَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَنْ دَخَلَ عَلَى طَعَامٍ وَلَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ دَخَلَ فَاسِقًا ، وَأَكَلَ حَرَامًا ".
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے کھانے پر بن بلائے پہنچ گیا جس کی اسے دعوت نہیں دی گئی تھی، تو وہ (میزبان کی مرضی کے خلاف شریک ہو کر) ایک گناہ گار کی حیثیت سے داخل ہوا اور اس نے حرام مال کھایا۔“
ائمہ حدیث کے نزدیک اس روایت کی سند میں موجود راوی طلحہ بن ابی عثمان کے تفرد کی وجہ سے اس کے ثبوت پر کلام کیا گیا ہے، تاہم یہ اثر ضیافت کے آداب اور کسی کی نجی محفل میں بغیر اجازت شرکت کی ممانعت کے حوالے سے ایک اہم اخلاقی و شرعی اصول کی نشاندہی کرتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1663
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5177، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1432، وأخرجه موطأ مالك برقم: 2009 / 509، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5304، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 6577، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3742، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 2110، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1913، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 524، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 14633، وأخرجه مسند أحمد برقم: 7399، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2422، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 1204، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 5891، وأخرجه مسند البزار برقم: 7694، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 19662، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3016، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3264»