المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهَةِ الدخول إِلَى الوليمة بغير دعوة باب: بغیر دعوت کے ولیمہ کی ضیافت میں داخل ہونے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1663
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الْيَمَانُ أَبُو حُذَيْفَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَنْ دَخَلَ عَلَى طَعَامٍ وَلَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ دَخَلَ فَاسِقًا ، وَأَكَلَ حَرَامًا ".ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسے کھانے پر بن بلائے پہنچ گیا جس کی اسے دعوت نہیں دی گئی تھی، تو وہ (میزبان کی مرضی کے خلاف شریک ہو کر) ایک گناہ گار کی حیثیت سے داخل ہوا اور اس نے حرام مال کھایا۔“
ائمہ حدیث کے نزدیک اس روایت کی سند میں موجود راوی طلحہ بن ابی عثمان کے تفرد کی وجہ سے اس کے ثبوت پر کلام کیا گیا ہے، تاہم یہ اثر ضیافت کے آداب اور کسی کی نجی محفل میں بغیر اجازت شرکت کی ممانعت کے حوالے سے ایک اہم اخلاقی و شرعی اصول کی نشاندہی کرتا ہے۔