المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الرجوع لِمَنْ رأى منكرا باب: منکر کام دیکھنے والے کے لیے واپس لوٹنے کی اجازت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، نَبَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ : إِنَّ رَجُلًا دَعَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى وَلِيمَةٍ ، فَلَمَّا جَاءَ سَمِعَ لَهْوًا ، فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ كَانَ شَرِيكًا لِمَنْ عَمِلَهُ " .
( 72 ) وَحَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ فِي كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے انہیں ولیمے کی دعوت دی، جب وہ تشریف لائے تو انہوں نے وہاں کھیل کود اور لہو و لعب کی آوازیں سنیں اور اندر داخل ہونے سے رک گئے، اس پر میزبان نے دریافت کیا کہ آپ کو کیا ہوا (آپ اندر کیوں نہیں آئے)؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کسی گروہ کی تعداد میں اضافہ کیا وہ انہی میں سے شمار ہوگا، اور جو شخص کسی قوم کے عمل پر راضی ہوا وہ اس عمل کے کرنے والے کا شریکِ کار سمجھا جائے گا۔“
اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حدیث ان شاء اللہ آگے 'کتاب الاشربہ' (مشروبات کے بیان) میں آئے گی۔