المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِجَابَةُ الدعوى فِي الوليمة باب: ولیمے کی دعوت قبول کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَتْنَا حَبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَفْصٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُكْرَهُ رَدُّ اللُّطْفِ ؟ قَالَ : " مَا أَقْبَحَهُ ! لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَيْهِ لَأَجَبْتُ ".سیدہ ام حکیم بنت وداع الخزاعیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا: کیا کسی کے لطف و کرم یا معمولی ہدیہ کو رد کر دینا ناپسندیدہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ عمل کتنا ہی قبیح اور برا ہے! اگر مجھے ہدیے میں (بکری کے) پائے بھی پیش کیے جائیں تو میں انہیں ضرور قبول کروں گا، اور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں اس دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔“
ائمہ و شارحین کے نزدیک اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی کے ہدیہ یا دعوت کو حقیر جان کر ٹھکرانا نہیں چاہیے، کیونکہ اصل مقصود تالیفِ قلب اور باہمی تعلقات کی استواری ہے، چاہے وہ شے بظاہر معمولی ہی کیوں نہ ہو۔