❮
❯
حدیث نمبر: 1661
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَتْنَا حَبَابَةُ بِنْتُ عَجْلَانَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَفْصٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُكْرَهُ رَدُّ اللُّطْفِ ؟ قَالَ : " مَا أَقْبَحَهُ ! لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَيْهِ لَأَجَبْتُ ".
ترجمہ

سیدہ ام حکیم بنت وداع الخزاعیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا: کیا کسی کے لطف و کرم یا معمولی ہدیہ کو رد کر دینا ناپسندیدہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ عمل کتنا ہی قبیح اور برا ہے! اگر مجھے ہدیے میں (بکری کے) پائے بھی پیش کیے جائیں تو میں انہیں ضرور قبول کروں گا، اور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں اس دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔“
ائمہ و شارحین کے نزدیک اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی کے ہدیہ یا دعوت کو حقیر جان کر ٹھکرانا نہیں چاہیے، کیونکہ اصل مقصود تالیفِ قلب اور باہمی تعلقات کی استواری ہے، چاہے وہ شے بظاہر معمولی ہی کیوں نہ ہو۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الوليمة / حدیث: 1661
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6134، 6135، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3294»